17 مئی 2015 - 08:57
جوہری سمجھوتہ ممکن ہے، وزیرخارجہ

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جوہری مذاکرات میں مقابل فریق نے اگر مکمل سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو مثبت نتیجہ برآمد ہوگا-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جرمن جریدے اشپیگل سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی سمجھوتہ ممکن ہے تاہم انہوں نے کہا کہ مقابل فریق کی جانب سے مکمل سنجیدگی کی ضرورت ہے - وزیرخارجہ نے کہا کہ گذشتہ ڈیڑھ برس سے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان جاری مذاکرات کے نتیجے میں بہت سے اختلافی مسائل حل ہوئے ہیں- وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ مقابل فریق کی جانب سے مزید سنجیدگی کا مظاہرہ کئے جانے کی ضرورت ہے تاکہ جوہری مذاکرات کا حتمی نتیجہ برآمد ہوسکے- ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات کے بعض فریقوں منجملہ امریکہ کےبیجا مطالبات کی بناء پرہی مذاکرات کا عمل اتنا طولانی ہوا ہے- انھوں نے خبردار کیا کہ جوہری مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت میں رکاوٹ کھڑی کرنے سے کسی بھی فریق کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا- وزیرخارجہ نے اس گفتگو میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عراق کے لئے ایران کی فراہم کردہ مدد کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایسی حالت میں جب علاقے کے بعض ممالک، عراق میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں، تہران نے دہشتگرد گروہوں کے مقابلے میں حکومت عراق کی درخواست پر بغداد کی مدد کی ہے- انھوں نے بحران شام کے بارے میں بھی کہا کہ مسلط کئے جانے والے اس بحران کے آغاز سے ہی ایران کا موقف رہا ہے کہ شامی فریقوں کے درمیان مذاکرات سے ہی مسئلہ حل ہوسکتا ہے اور بیرونی مداخلت یا فوجی طریقہ اختیار کئے جانے سے بحران مزید پیچیدہ ہوگا- ایران کے وزیر خارجہ نے یمن کے بارے میں بھی کہا کہ تہران، یمن پر فوجی حملے کے خلاف ہے- انھوں نے یمن پر سعودی فوجی جارحیت پر امریکی حمایت پر کڑی تنقید بھی کی- محمد جواد ظریف نے کہا کہ یمنی عوام اپنے ملک میں بیرونی مداخلت کے بغیر حکومت تشکیل دینے کے خواہاں ہیں- ایران کے وزیر خاربجہ نے یمن میں تہران کی مداخلت کی تردید کی اور زور دے کر کہا کہ ایک ایسے وقت جب یمن،علاقے کے بعض ملکوں کی فوجی جارحیت کا نشانہ بنا ہوا ہے، اس ملک میں ایران کی مداخلت کا دعوی کرنا مضحکہ خیز ہے- انھوں نے کہا کہ ایران، یمن میں وسیع البنیاد حکومت کی تشکیل کے لئے اس ملک کے سیاسی گروہوں کے درمیان ہر قسم کے تعاون و مذاکرات کا خیر مقدم کرتا ہے-

.......

/169